نئی دہلی،3؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) زرعی قوانین کے خلاف کسان مودی حکومت سے اس قدر ناراض ہیں کہ آج مذاکرہ کے دوران جب لنچ بریک ہوا تو انھوں نے حکومت کے ذریعہ پیش کردہ کھانا اور چائے قبول کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ یاد رہے کہ مودی حکومت بات چیت کے ذریعہ اس تحریک کو ختم کرنے کی کوششیں کر رہی ہے اسی سلسلہ میں آج دہلی کے وگیان بھون میں مودی حکومت کے نمائندوں نے کسان لیڈران سے بات چیت کے ذریعہ مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن کسانوں کے لیڈران اپنے کچھ مطالبات کو لے کر بضد ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، مظاہرہ جاری رہے گا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق وگیان بھون میں حکومتی نمائندوں اور کسان لیڈران کے درمیان جب مذاکرہ چل رہا تھا تو لنچ بریک میں کسان لیڈران اپنے ساتھ لایا ہوا کھانا کھاتے ہوئے دیکھے گئے تو کچھ میڈیا اہلکاروں نے ان سے سوال کیا۔ اس پر ایک کسان لیڈر نے کہا کہ کسانوں کو حکومت کی جانب سے کھانا دیا گیا تھا، لیکن اسے ہم لوگوں نے قبول نہیں کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم حکومت کے ذریعہ دیا گیا کھانا اور چائے نہیں لے رہے ہیں۔ ہم اپنا کھانا اپنے ساتھ لے آئے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے کسان دہلی میں داخل ہونے والے بارڈرس پر زرعی قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنے ساتھ وہ کئی مہینوں کا کھانا بھی لے کر بیٹھے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ جب تک زرعی قوانین کو واپس نہیں لیا جائے گا، وہ اپنا مظاہرہ ختم نہیں کریں گے۔ ٹیکری اور سنگھو بارڈر پر ہزاروں کی تعداد میں کسان سرد راتوں میں پرامن مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں کسان براڑی واقع نرنکاری گراؤنڈ میں بھی موجود ہیں جہاں کئی ادارے ان کے کھانے پینے کا انتظام دیکھ رہے ہیں۔